مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے نئے داخلہ و اخراجی راستوں سے متعلق حتمی معاہدہ جلد خلیج فارس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان اگست کے اواخر میں ہونے والے مسلسل تکنیکی اور سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں یہ معاہدہ طے پایا۔ یہ مفاہمت صرف ایران اور عمان کے درمیان ہوئی ہے، جبکہ دیگر ممالک کو صرف طے شدہ راستوں اور ٹرانزٹ انتظامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخلے کا راستہ مکمل طور پر ایرانی علاقائی پانیوں میں ہوگا، جبکہ خلیج فارس سے باہر نکلنے والے راستے کا ایک حصہ بھی ایرانی علاقائی پانیوں میں واقع ہوگا اور اس راستے پر ٹرانزٹ ایران کے انتظامات کے تحت ہوگا۔ اس کے نفاذ کے بعد جنوبی راستہ بند کردیا جائے گا، جسے امریکہ کھلوانے پر اصرار کرتا رہا ہے اور جو حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں شامل تھا۔
اجلاس میں ایران، عمان اور دیگر ساحلی ممالک کے علاوہ عراق بھی شرکت کرے گا، تاہم معاہدے کی تفصیلات ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں طے کی گئی ہیں۔
ذرائع نے واضح کیا کہ یہ مفاہمت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے مترادف نہیں ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو سات شرائط پہنچائی ہیں اور جب تک ایرانی اعلیٰ عسکری حکام کی منظور کردہ یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
ذرائع کے مطابق اس مفاہمت کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کی صورت میں اسی معاہدے کی بنیاد پر کھلے گی، جو آبی گزرگاہ پر ایران کی حاکمیت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا مکمل طور پر امریکہ کے ان شرائط پر عملدرآمد پر منحصر ہوگا۔
آپ کا تبصرہ